سری نگر ، 18؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں 26سال سے جاری مسلح شورش کے دوران پہلی مرتبہ ایک خود کش مسلح حملے میں 17ہندوستانی فوجی مارے گئے ہیں۔شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریبی قصبہ اُڑی میں پانچ گھنٹوں کے طویل تصادم کے بعد انڈین فوج نے کہا ہے کہ چار مسلح حملہ آوروں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔جموں میں مقیم ہندوستانی فوج کی شمالی کمان کے ترجمان نے حملے میں 17فوجی اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ سری نگر سے شمال کی جانب 105کلومیٹر دُور واقع اُڑی قصبہ میں واقع ہندوستانی فوج کے برگیڈ ہیڈکوارٹر میں اتوار کی صبح ساڑھے پانچ بجے کیا گیا۔ واضح رہے اُڑی سے لائن آف کنٹرول صرف بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔سری نگر میں تعینات فوج کی 15ویں کور کے ترجمان کا الزام ہے کہ جدید ہتھیاروں سے لیس یہ حملہ آور چند روز پہلے ہی ایل او سی عبور کرکے ہندوستانی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔جوابی آپریشن میں شامل ایک فوجی افسر نے بتایا کہ شدت پسندوں نے برگیڈ ہیڈکوارٹر کے ایک آفس کمپلیکس میں داخل ہوتے ہی فائرنگ شروع کردی۔ شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کے لیے ہندوستانی فوج کے پیراکمانڈوز کو جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جائے واردات پر اتارا گیا۔ ساڑھے پانچ گھنٹوں کے مسلح تصادم کے دوران مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔فوجی ترجمان نے بتایا کہ زخمی فوجیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ سری نگر میں واقع فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔اس حملے کے بعد وزارت دفاع اور وزارت داخلہ نے ہنگامی اجلاس کا طلب کرلیا ہے۔ وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس حملے پیش نظر روس اور امریکہ کا دورہ منسوخ کردیا۔ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ بھی حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بار پھر کشمیر جارہے ہیں۔ اس سے قبل کپوارہ، پونچھ اور جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں فوجی اور نیم فوجی تنصیبات پر مسلح حملے ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق بارہ مولہ ضلعے کے اُڑی سیکٹر میں اتوار کی صبح انڈین فوج کے ٹھکانوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ہندوستانی خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے اسے مشتبہ فدائی حملہ قرار دیا ہے۔راج ناتھ سنگھ نے اپنے ٹویٹس میں کہا: میں نے داخلہ سیکریٹری اور وزارت کے دوسرے اعلی عہدیداروں کو کشمیر کے حالات پر بغور نظر رکھنے کے لیے کہا ہے۔ اُڑی کے حملے کے متعلق میں نے جموں و کشمیر کے گورنر اور وزیر اعلی سے بات کی ہے اور انھوں نے ہمیں ریاست کے حالات سے آگاہ کیا ہے۔کشمیر میں تقریبا ڈھائی ماہ سے کشیدگی کی لہر جاری ہے جس میں 80سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ اڑی شہر لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کے قریب ہے اور فوجی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ حملہ آور رات کے کسی حصے میں ایل او سی پار کرکے شہر میں داخل ہوئے ہوں گے۔حملے نے فوجی حکام کو حیرت زدہ کر دیا ہے کیونکہ اس علاقے میں فوج کی بہت زیادہ موجودگی ہے اور کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کے پیش نظر وہاں فوج کافی چوکنی ہے۔اس دوران اتوار کو بھی پوری وادی میں احتجاجی ہڑتال رہی اور بیشتر علاقوں میں مظاہروں کو روکنے کے لیے کرفیو، ناکہ بندی اور دوسری پابندیاں نافذ رہیں۔ مظاہرین کے خلاف فورسز کی کاروائیوں میں اب تک 85سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد بارہ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے پتھراو کی وجہ سے ساڑھے پانچ ہزار فورسز اہلکار بھی زخمی ہیں۔اُڑی میں مسلح حملے کے بعد پورے بارہمولہ ضلع میں فوج نے تلاشی مہم شروع کردی ہے۔ فوج کو شبہہ ہے کہ ضلع میں مزید پاکستانی شدت پسند موجود ہیں جو فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔دوسال قبل اسی ضلعے میں موہرا کے مقام پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔